بھٹکل :20/اکتوبر(ایس او نیوز) طلاق کے مکمل اصول قرآن نے بہت ہی واضح انداز میں بیان کئے ہیں،میاں بیوی کی ازدواجی زندگی میں کوئی ان بن ہو جاتی ہے تو ابتدائی طورپر دونوں کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی جائے، بات نہیں سلجھتی ہے تو حَکم کے پاس معاملہ حل کرنےکی کوشش کی جائے۔ جب سمجھانے بجھانے کے تمام راستے بند ہوجائیں دونوں میں کوئی نبھاہ نہیں ہوپا رہا ہے ، اگر دونوں کا ایک ساتھ چلنا ناممکن ہوجائے تو پھر آخری اور حتمی سطح پر طلاق کی نوبت آتی ہے۔ طلاق آخری چارہ کے طورپر دونوں کو جدا ہونے کا بالکل آسان اور بہترین ، منصفانہ حل ہے تاکہ ازدواجی زندگی ختم ہونے کے بعد دونوں دوبارہ اپنی زندگی الگ الگ ہنسی خوشی گذاریں۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم کومجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے زیراہتمام اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے زیر انتظام انجام دینے کے لئے بدھ کے روز تنظیم ہال میں بعدعشاء منعقد تفہیمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی اسپورٹس سنٹروں کے عہدداران اور دیگر طلبا تنظیموں کے عہدیداران سے خطاب کررہے تھے۔
مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں مسلمان شریعت کے مطابق عمل کرتے رہے ہیں، 1937 ء کےبعد نکاح، فسخ، طلاق، خلع، وراثت جیسے عائلی قوانین پر عمل کرتے رہے ہیں، آزادی کے بعد بھی دستور ہند کے مطابق تمام مذاہب والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنےکی اجازت دی گئی ، اسی طرح مسلمانوں کے مسلم پرسنل لاء کو بھی برقرار رکھا گیا ۔ ہندوستان کی سالمیت اور بقا موجود ہ دستور کی حفاظت میں ہی ہونے کی بات کہی۔ مولانا نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کے ذریعے اسلام سے چھیڑ چھاڑ کئے جانےکی سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے، انتخابات میں تشہیری مہم کے پیش نظر ، اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے یہ سوشہ چھوڑا ہے، جس میں وہ قیامت تک کامیاب نہیں ہونگے۔
مولانا نے بہت ہی واضح انداز میں کہاکہ بھارت کی سالیمیت اور بقا املکی دستور کی حفاظت میں ہے۔ 1983-1984 میں شاہ بانو کے کیس میں مسلمانوں نے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا جہاں معاملہ شریعت سے متصادم تھااوربڑی چالاکی کے ساتھ قرآنی آیات کی غلط تشریح کرنے کی کوشش کی گئی تھی،تشریح کا حق سپریم کورٹ یا کوئی دوسرے کو ہے ہی نہیں ، اسی طرح میڈیا کے ذریعے طلاق ثلاثہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں نافذ ہونے کی افوا ہ پھیلائی جارہی ہے، جب کہ دعویٰ کے طورپر ایک ملک کا نام بھی نہیں بتارہے ہیں۔ اگر کوئی شخص قرآن وحدیث کی لاعلمی کی بنیاد پرطلاق کا غلط استعمال کرتاہے تو یہ اس کی اپنی غلطی ہے، گویا اس نے شریعت کا حکم نہیں مانا ہے۔طلاق ثلاثہ کی آڑ میں طلاق کو کالعدم قرار دینےکی سازش ہے، قرآن اور شریعت سے مقابلہ آرائی ہے، طلاق دینےکے بعد بھی دونوں کو میاں بیوی رہنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ اس پس منظر میں تمام کو شریعت کا قانون جاننا لازمی ہے۔ جو عورتیں شریعت کے خلاف سامنے آرہی ہیں ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ انہیں استعمال کیا جارہاہے، یہ خود نہیں جانتی کہ شریعت کیا ہے۔ شریعت ہمارا وضع کردہ قانون نہیں ہے ، بلکہ یہ اللہ کا قانون ہے اورقیامت تک یہی جاری رہے گا۔ شریعت کے سامنے اپنی عقل اور دماغ نہیں چلے گا، شریعت کے سلسلے میں ادنیٰ سوال ’’کیوں ‘‘کا لفظ بھی آئے گا تو ایمان جاتا رہے گا۔ ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم اللہ کی شریعت کے سامنے ہماری زبان کھولیں۔ میڈیا کے جھانسے میں یا کسی کے ورغلانے میں نہ آئیں۔ ایک شادی سے زائد شادی کرنے کا حکم بھی کن اصولوں پر دیا گیا ہے اس کے متعلق ہم کو معلومات ہونی چاہئے، ایک بیوی سنبھالے نہیں سنبھل رہی ہے تو دوسری کی طرف جانے کا کہاں حکم ہے، اگر اجازت دی گئی ہے تو وہ حکمت پر مبنی ہے۔ ہندوستان میں کتنے مسلمان ایک سے زائد شادی کرتے ہیں؟مسلمانوں سے کہیں زیادہ دیگر مذاہب کے لوگ ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں۔ اسی طرح دیگر مذاہب میں طلاق کی تعداد مسلمانوں کی نسبت زیادہ ہے۔
تفہیمی اجلاس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا محمد الیاس جاکٹی ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں ایمان کے ساتھ زندہ رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ اگر ہم نے اس وقت نہیں کیا تو ہماری نسلیں زندہ تو رہیں گی نام کے ساتھ ،لیکن ایمان کے ساتھ نہیں رہیں گے۔فسطائی قوتوں کو لگاتار 70-75سالوں کی کوششوں کے بعد انہیں ملک میں اقتدار کی کامیابی ملی ہے، ان کی سازش ہے کہ اسلام سے مسلمانوں کو دست بردار کیا جائے ، مسلمانون کو نام کے مسلمان بنائیں ،انہیں اندر سے کھوکھلا کردیا جائے۔مولانا نے حضرت مولانا علی میاںؒ نے 40سال پہلے اپنی ایک تقریر’’ نیا طوفان اور اس کا مقابلہ ‘‘میں کہا تھا کہ طوفان بلاخیز پر بندھ باندھنےکی کوشش نہیں کی تو سب بہہ جائیں گے۔آج کچھ مفاد پرست مسلمانوں کے لبادے میں اسلام کے خلاف بول رہے ہیں ہم ان کو مسلمان نہیں مانتے۔ مولانا نے کہاکہ دستور کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی شریعت کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے یہ دستوری حق ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ انہوں نے جاری حالیہ بحث کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ سائرہ بانونامی ایک خاتوں نے سپریم کورٹ میں 50ہزار دستخطوں کے ساتھ معاملہ پیش کیا ہے۔انہیں یاد رہے کہ ہم 50لاکھ سے زائد دستخطوں کو سونپیں گے۔
مولانانے طلاق پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ طلاق اتنی اچھی بہترین چیز ہے کہ اسلامی لاء کو دیکھ کر دیگر مذاہب بھی اختیار کئے ہیں، یہ قوانین صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہیں۔ہم کسی مکہ اور مدینہ میں رہنے والے کی تقلید نہیں کرتے ، بلکہ مکہ اور مدینہ کو آبادکرنے والے کی تقلید کرتے ہیں، ہم ان کے رب کو اور ہمارے رب کو مانتے ہیں اور اسی پر عمل کرتے ہیں ۔ہمارا نمونہ قرآن اور حضرت محمد ﷺ ہےاس کے علاوہ اور کوئی نمونہ نہیں ہے۔مولانا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران سے ہوئی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مسلم پرسنل لاء نے ایسے دلائل کے ساتھ اپنے وکلاء(جس میں غیر مسلم وکیل بھی شامل ہیں) کو سپریم کورٹ بھیجا ہے جہاں دلائل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا تو ایک فی صد بھی ہمارے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح ملک کی بقاکو لے کر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ جب متعصب ہوگا تو ہندوستان کی بقا خطرے میں ہوگی۔ مولانا نے شرکاء سے کہا کہ ایمان کی چنگاری کو مہمیز اور روشن کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ہم کو کام کرنا ہے۔
مولانانے صدیوں سے ملک میں جاری مسلمانوں کی جدوجہد میں اہل بھٹکل کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو قائم کرنے کی تحریک چلانے والوں میں بھی بھٹکل کا اہم رول رہاہے ، جس میں اے بی حافظکا پیش پیش تھے، انہوں نے ہی ممبئی میں تاریخ ساز جلسہ کا انعقاد کیا تھا۔ مرحوم مولانا محی الدین منیری ؒ اس کے بانی ممبر تھے،بھٹکل والوں نے پہلے دن سے ملت کے ہرکام میں بھرپور شریک رہے ہیں، بلقان کی جنگ سے لے کر آج تک جب بھی ملت کو کسی طرح کا مسئلہ پیش آیا ہے تو بھٹکل والوںنےہمیشہ آگے بڑھ کر اس کو حل کیا ہے۔ چاہے وہ معاشی ہویا کسی اور طرح کا ۔ آخر میں مولانا نے تمام سے اپیل کی کہ اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم صرف بہ صرف اسی کام کے لئے لگ جائیں ۔اور دستخطی مہم کو کامیاب بنائیں۔
اجلاس کا آغاز مولانا محمد امین رکن الدین ، امام و خطیب نور مسجد کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری مولانا محمد عرفان ایس ایم ندوی نے استقبال کیا ۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری نے تنظیم میں منعقدہ مختلف جماعتوں کی میٹنگ کی دستخطی مہم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ تنظیم پوری ساحلی پٹی کے مختلف تنظیموں اور اداروں کے اشتراک سے مہم کو ہر سطح پر کامیاب بنانے کے لئے تفصیلی خاکہ بنایا ہے۔ جس کے تحت بھٹکل ، مرڈیشور، منکی اور ضلع کے دیگر تعلقہ جات میں بھی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے کام کرنے کی بات کہی ۔ مہم کے کنونیر ، مسلم پرسنل لاء بور ڈ کے رکن مولانا عبدالعلیم قاسمی نے افتتاحی کلمات کے طورپر کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کی جو کوشش کی گئی ہے اس کوشش کو ہرگز کامیاب ہونے نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے کل بعد نماز جمعہ باقاعدہ طور پر دستخطی مہم کا آغاز ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل جمعہ کی مساجد میں پر سنل لاء کے سلسلے میں علمائے کرام تفھیمی خطبات دیں گے ۔اجلاس میں تنظیم کے نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم مولانا مقبول احمد کوبٹے ، فیڈریشن کے صدر امتیاز ادیاور، نائب صدر مولوی ارشاد نائطے ندوی وغیرہ موجود تھے۔ بھٹکل ، مرڈیشور، منکی کے اسپورٹس سنٹر کے عہدیداران ، طلبا تنظیموں کے عہدیداران ، مساجد کے خطباء،سمیت تنظیم کے عہدیداران اور دیگر ممبران، علماء، طلبا تنظیموں کے عہدیداران ، معززین شہر موجود تھے۔